23rd march pakistan

یومِ پاکستان: قراردادِ لاہور سے تکمیلِ وطن تک — فکرِ قائد اور ہماری قومی ذمہ داری

تاریخ کے اوراق میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو محض تاریخ نہیں رہتے بلکہ قوموں کی تقدیر بن جاتے ہیں۔ تئیس مارچ 1940 بھی ایک ایسا ہی روشن اور فیصلہ کن دن ہے، جب لاہور کے تاریخی میدان میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک الگ وطن کا خواب صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ اسے ایک واضح نصب العین کی صورت دے دی۔ یہی وہ دن تھا جب قراردادِ لاہور پیش ہوئی، جو آگے چل کر قراردادِ پاکستان کہلائی اور ایک نئی اسلامی مملکت کے قیام کی بنیاد بنی۔

یہ دن اچانک نہیں آیا تھا، بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی قربانیاں، جدوجہد اور ایک عظیم رہنما کی بے مثال قیادت کارفرما تھی۔ قائداعظم محمد علی جناح، جن کی پیدائش 25 دسمبر 1876 کو ہوئی، ایک ایسے مدبر، بااصول اور دوراندیش رہنما تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو نہ صرف ایک قوم ہونے کا شعور دیا بلکہ انہیں ایک واضح منزل بھی عطا کی۔

1939 سے 1940 کے درمیانی عرصے میں قائداعظم کی تقاریر مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئیں۔ انہوں نے دو قومی نظریے کو نہایت وضاحت کے ساتھ پیش کیا اور باور کرایا کہ مسلمان محض ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک الگ قوم ہیں، جن کی تہذیب، مذہب اور شناخت جدا ہے۔ ان کی آواز میں یقین تھا، ان کے الفاظ میں وزن تھا، اور ان کے پیغام میں ایک قوم کی تقدیر پوشیدہ تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کو اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کا درس دیا اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کر دیا۔

پھر وہ تاریخی لمحہ آیا جب 23 مارچ 1940 کو مسلمانوں نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا عزم کیا۔ اس کے بعد تحریکِ پاکستان ایک تیز رفتار دریا کی طرح آگے بڑھی۔ 1940 سے 1947 تک کا عرصہ قربانیوں، ہجرتوں اور آزمائشوں سے بھرا ہوا تھا، مگر قوم کے حوصلے بلند تھے اور قائد کی قیادت مضبوط۔ بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا — ایک آزاد وطن، ایک نئی امید۔

لیکن یہ آزادی آسانی سے حاصل نہیں ہوئی۔ لاکھوں مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑے، بے شمار جانیں قربان ہوئیں، اور تاریخ نے ایک عظیم ہجرت کا منظر دیکھا۔ یہ سب اس لیے تھا کہ آنے والی نسلیں ایک آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔

آج جب ہم یومِ پاکستان مناتے ہیں تو یہ دن ہمیں ماضی کی ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہان اپنے پیغامات میں قوم کو اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کی تلقین کرتے ہیں اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ پیغامات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آزادی صرف حاصل کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ اس کی حفاظت اور ترقی بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

تاہم، اگر ہم آج کے حالات کا جائزہ لیں تو ایک اہم سوال ابھرتا ہے:
کیا ہم واقعی قائداعظم کے فلسفے پر عمل پیرا ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ایک آزاد ملک تو حاصل کر لیا، مگر ابھی تک ہم قائد کے خواب کی مکمل تعبیر نہیں کر سکے۔ ہمارے اندر اتحاد کی کمی، نظم و ضبط کا فقدان، اور ذاتی مفادات کی ترجیح جیسے مسائل موجود ہیں۔ جہاں قائداعظم نے ایک منصفانہ، دیانتدار اور متحد معاشرے کا تصور دیا تھا، وہاں ہمیں آج بھی ان اصولوں کو عملی طور پر اپنانے کی ضرورت ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح کا انتقال 11 ستمبر 1948 کو ہوا، مگر ان کے افکار آج بھی زندہ ہیں۔ ان کی زندگی، ان کی جدوجہد اور ان کے اصول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اگر ہم ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں قائد کے سنہری اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تئیس مارچ ہمیں صرف ایک تاریخی واقعہ یاد نہیں دلاتا، بلکہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے، ہمیں جگاتا ہے، اور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ:

قومیں خوابوں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔

اور اس موقع پر علامہ اقبال کا یہ شعر ہمارے دلوں میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے:

“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”

آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے، تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں قائداعظم کے خوابوں کی تعبیر بن سکے۔

WDT

Editor of web is proffissnal ,experienced journalistic background ,

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *